Amar Bail

A plant of eternity

ماں کے سرہانے ۔ ۔ ۔

Posted by Haris Gulzar on July 2, 2009

“سلمان! بیٹا کیا کر رہے ہو ابھی تک؟” سلمان کی ماں نے سلمان کے کمرے کی بتّی جلتی دیکھ کر سلمان کو آواز دے کر پوچھا۔

“امّی کمپیوٹر پہ ہوں بس سونے لگا ہوں”۔ سلمان نے جواب دیا۔

“بیٹا پلیز بتّی بند کردو مجھے بہت الجھن ہو رہی ہے”۔ سلمان کی ماں نے کہا۔ سلمان کو محسوس ہوا جیسے ماں کے لہجے میں غصہ تھا مگر تکلیف کے آثار بھی نمایاں تھے۔

“جی امّی بس کرنے لگا ہوں”۔ سلمان نے فرماںبرداری میں جواب دیا۔

سلمان کو کمرے کی بتّی بند کرنے میں اتنی ہی دیر لگی ہوگی جتنی دیر کمپیوٹر کو بند ہونے میں لگتی ہے۔ سلمان اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ اسکی ماں کو اس وقت تک نیند نہیں آتی جب تک گھر کی تمام بتّیاں بجھ نا جائیں۔

“سلمان!”۔ ابھی سلمان کو لیٹے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جاب اسکی ماں نے پھر سے اسے آواز دی۔

“جی امّی”۔ سلمان نے جواب دیا۔ ماں کی اواز میں تکلیف تھی اور کچھ زیادہ جان بھی نہیں تھی۔ سلمان کو محسوس ہو گیا تھا کہ آج پھر اسکی ماں کی طبیعت خراب ہے۔

“میرے پاؤں دبا دو”۔ سلمان کے کمرے میں پہنچتے ہی اسکی ماں نے اسے کام بتایا۔

“آپکی طبیعت آج پھر خراب ہے؟” سلمان نے غالباً فقت کوئی بات کرنے کے لئے یہ پوچھا تھا۔

“ہاں، پتہ نہیں کیوں بہت بے چینی سی ہے”۔ ماں نے سلمان کی بات کا جواب دیا۔

“مجھے کچھ ہو رہا ہے”۔ سلمان ابھی ماں کے پاؤں دبا ہی رہا تھا کہ وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں اور تقریباً روتے ہوئے بولیں۔

“کیا ہو گیا ہے امّی۔ آپ لیٹ جائیں”۔ سلمان نے پریشان ہو کر کہا۔

“لیٹا بھی نہیں جا رہا نا”۔ سلمان کی ماں نے سلمان کی بات کا جواب دیا۔

“لیٹا جائے گا انشا اللہ، میں آپکے سر پہ پانی لگا دیتا ہوں”۔

سلمان کی ماں نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور دوبارہ لیٹ گئیں۔

سلمان نے کچن سے ایک چھوٹی کٹوری لی اور فرج میں سے تھوڑا سا پانی نکال کر کٹوری میں ڈالا۔ سلمان خود بھی پریشان ہو گیا تھا اپنی ماں کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر۔

پانی والی کٹوری لے کر سلمان جب ماں کے کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کے اسکی ماں دوبارہ بیٹھی ہوئی تھیں، اور اپنے پاؤں سے پاؤں مل رہی تھیں۔

“دیکھو میرے پاؤں پہ کیا ہوا ہے، مجھے بہت خارش ہورہی ہے”۔ سلمان کی ماں نے سلمان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے اپنے پاؤں دکھائے۔

اپنی ماں کے سوجھے ہوئے پاؤں دیکھ کر سلمان نے کٹوری پلنگ کے کنارے پڑے ہوئے میز پہ رکھی اور اپنے ہاتھ کے انگوٹھوں کے نرمی سے سوجھن والی جگہ کو دبانے لگا۔

“کچھ نہیں ہوا، پاؤں سوجھ گئے ہیں تھوڑے بس۔ آپ لیٹ جائیں”۔ سلمان نے اپنی ماں کو تسلّی دیتے ہوئے کہا۔ سلمان اس سوچ میں گم تھا کہ کیا اسکی ماں کو آج پھر شوگر کا مسئلہ ہوا ہے یا یہ بے چینی بلڈ پریشر کی وجہ سے ہے۔

“ہائے۔ ۔ ۔ امّاں۔ ۔ ۔ اللہ مجھے بخش دے ۔ ۔ ۔ ” سلمان کی ماں درد سے کراہ رہی تھیں۔ انہیں اس وقت تک سارے جسم میں دردیں شروع ہو چکی تھیں۔

سلمان نے میز پہ رکھی کٹوری کو اٹھایا اور اپنی ماں کے سرہانے آکر بیٹھ گیا۔ ہاتھوں کو پانی میں ڈبو کر جب اسنے ماں کے ماتھے پہ رکھا تو ماں نے اسکا ہاتھ اپنے ماتھے پہ روک لیا اور ہلکا سا دبایا۔

“جیتے رہو میری جان”۔ ماں نے سلمان کو دعا دیتے ہوئے کہا۔ “تھوڑی دیر ایسے ہی میرے پاس بیٹھے رہو۔ ۔ ۔”

سلمان کٹوری سے ہاتھ نکالتے وقت کوشش کرتا کہ اسکے ہاتھ میں تھوڑا پانی باقی رہے اور وہ قطرہ قطرہ کر کے ماں کے سر پہ اور ماتھے پہ لگائے۔ ماں کے ماتھے پہ بہتے پانی کے قطرے اچانک سے روک کر وہ واپس ماتھے پہ مل دیتا۔

“سر دباؤ نہیں”۔ اچانک ماں کی آواز آئی۔ سلمان ماں کہ سر پہ پانی لگاتے لگاتے ہلکا ہلکا دبانے بھی لگا تھا، مگر شاید وہ ماں کے لئیے زیادہ تکلیف دہ تھا۔

سلمان کافی دیر تک ماں کے سرہانے بیٹھا رہا اور کبھی ماں کے گالوں پہ، کبھی سر پہ اور کبھی ماتھے پہ پانی لگاتا رہا۔ شاید اب ماں بہتر محسوس کر رہی تھیں۔ کافی دیر سے وہ کچھ نہیں بولی تھیں، نہ ہی انہوں نے کروٹ تبدیل کی اور نا ہی انکے ہاتھ یا پاؤں نے کوئی حرکت کی تھی۔ شاید سلمان کی ماں سوتی جا رہی تھیں۔

سلمان کو محسوس ہوا کہ اگر وہ اسی طرح ماں کے سرہانے بیٹھا رہا، تو شاید ماں کو کروٹ لینے میں دشواری نہ ہو۔ وہ اٹھا، اور ماں کے سر سے اپنا ہاتھ اٹھائے بغیر پلنگ کے ساتھ ہی نیچے قالین پہ بیٹھ گیا۔ اسنے ماں کو محسوس نہیں دیا کہ وہ اپنی جگہ سے ہلا ہے۔

ماں کے منہ سے نکلنے والی ہلکی ہلکی آواز اس بات کا ثبوت تھی کہ ماں گہری نیند میں جاتی جارہی ہیں۔ مگر سلمان لگاتار اپنے ہاتھ گیلے کر کے ماں کے سر پہ لگاتا رہا۔ اسی سوچ میں گم کہ اگر وہ یہاں سے اٹھا تو ماں کو محسوس ہو جائے گا۔ کہیں ماں کی آنکھ نہ کھل جائے۔ کہیں ماں کی تکلیف دوبارہ شروع نہ ہو جائے۔ وہ اپنی انگلیاں اپنی ماں کے سر پہ پھیرتا رہا اور ناجانے کب اسے بھی نیند آگئی۔ سلمان بھی اپنی ماں کے سرہانے سو گیا۔ ۔ ۔

5 Responses to “ماں کے سرہانے ۔ ۔ ۔”

  1. aliadnan said

    بہت اعلی پوسٹ ہے ۔ ۔ ۔ یہ خود لکھی ہے یا ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟

  2. خود لکھی ہے دوست۔ ۔ ۔

  3. کہاں ہوتے ہیں یار آجکل ایسے بچے
    مطلب ہوتے تو ہیں اور بہت کم
    اور مجھے احساس کمتری ہوتا ہے ایسی تحاریر پڑھ کر
    ایک نمبر کا نافرمان بچہ جو ٹھہرا میں
    میرے لئے بھی دعا کرنا
    بہت اچھی تحریر ہے
    اللہ تعالٰی آپ کی لکھاری صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے
    اٰمین

  4. کہاں گیا میرا کمنٹ؟

  5. امر بیل پہ خوش آمدید۔ غالباّ ورڈپریس آپ کو پہچان گیا تھا۔ آپ کا کمنٹ سیدھا سپیم فلٹر میں گیا تھا۔ ۔ ۔ دعائیہ الفاظ کے لئیے شکریہ۔ امید ہے کہ آپ میرا بلاگ پڑھتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

 
%d bloggers like this: