Amar Bail

A plant of eternity

Archive for October, 2008

چاچو بیٹی ہوں ۔ ۔ ۔

Posted by Haris Gulzar on October 13, 2008

حال ہی میں پڑھائی کے سلسلے میں مجھے کراچی منتقل ہونا پڑا۔ گزشتہ ۱۲ سالوں سے میری رہائش لاہور میں رہی ہے، اور اپنی فیملی سے دور رہنے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ میرا داخلہ پاکستان کے مشہور ادارے آئی بی اے میں ہوا تھا اور جولائی کے اخیرلے دنوں میں میں لاہور کو دو سال کے لئیے خیرباد کہ کر کراچی آگیا جہاں مجھے آئی بی اے کے ہوسٹل میں رہنا تھا۔

میری بھتیجی، منیبہ، جسکی عمراکتوبر ۲۰۰۸ میں ماشااللہ ۵ سال ہو گئی، میرے بھائی کی بڑی بیٹی ہے۔ منیبہ کی پیدائش سے لیکر گزشتہ جولائی تک اسکے ساتھ گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ان تین مہینوں میں یوں میرے کانوں میں گونجا ہے، جیسے میں کراچی میں نہیں بلکے منیبہ کے ساتھ ہی لاہور میں ہوں، اور ہر پل اس سے کھیل رہا ہوں۔ آج بھی جب منیبہ سے فون پہ بات ہوتی ہے تو وہ مجھے ایسے مخاطب کرتی ہے جیسے میں اسکے سامنے موجود ہوں۔ ابھی چند دن پہلے میری اس سے فون پر بات ہوئی اور وہ مجھ سے بولی، "چاچو، وہ جو ہم نے چنے کا پودا لگایا تھا باغ میں وہ مر گیا، مگر جو پودا ہم نے گھر کے باہر لگایا تھا وہ ابھی تک ٹھیک ہے، اور میں نے مالی بابا کو گوڈی کرنے کا بھی بول دیا تھا"۔ اسنے مزید کہا کہ "آپ جب واپس آؤ گے تو اس پہ چنے بھی لگے ہوئے ہونگے، پھر ہم وہ خود بھی کھائیں گے اور سب کو کھلائیں گے"۔ میں صرف اتنا کہ سکا کہ جو پودا بچا ہے اسکا خیال رکھنا اور اسے پانی دیتی رہنا۔

منیبہ چھوٹی سی تھی جب میں نے اسے یہ سکھا دیا کہ اگر کوئی پوچھے "کس کی بیٹی ہو؟"، تو اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہے۔ "چاچو بیٹی ہوں"۔ بلکہ مجھے یہ مخصوص جواب سننے کے لئیے کوئی سوال نہیں پوچھنا پڑتا تھا۔ میں صرف اتنا کہتا، "سب کو زور سے بتا دو۔ ۔ ۔" اور منیبہ با آوازِ بلند یہ اعلان کرتی، "چاچو بیٹی ہوں ں ں ں ں ۔ ۔ ۔" اور میرے گلے لگ جاتی۔ کچھ ہی عرصے میں جب منیبہ کو اس جملے کا مطلب پتہ لگا تو وہ یہی بات جزبات کے ساتھ بولتی۔ اپنے ہاتھوں کی مٹھی بند کر کے، ہاتھ ہوا میں بلند کر کے نعرا لگاتی، "چاچو بیٹی ہوں ں ں ں ں"۔

منیبہ کہانیاں سننے کے معاملے میں دوسرے بچوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ روزانہ نئی کہانی کی فرمائش، اور فرمائش بھی ایسی کہ کہانی میں پنکھا، ایک ۳ سال کا لڑکا، اور بارش کا ذکر آنا چاہئیے، یا پھر ہرے رنگ کی الماری اور سکول کا ذکر ہو۔ اور اکثر یہ فرمائش کچھ دنوں بعد دھرائی جاتی۔ اب ظاہر ہے ایسی فرمائشوں کے لئیے کہانی اسی وقت تیار کی جاتی ہے اور سنا دی جاتی ہے، اور کچھ دنوں بعد یاد بھی نہیں رہتا کہ پچھلی کہانی میں کیا سنایا تھا، مگر اکثر منیبہ ضد کرتی کہ میں حرف بہ حرف وہی کہانی سنوں گی۔ بلکہ اکثر پہلے منیبہ مجھے وہی کہانی سناتی جو اس نے کبھی مجھ سے سنی تھی، تاکہ میں یاد کرلوں اور پھر اسے سناؤں۔

اتوار کی شامیں خصوصاً منیبہ کے نام ہوتی تھیں۔ شام کا ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ منیبہ کے ساتھ پارک میں گزرتا تھا۔ "چاچو میں اس جھولے پہ جا رہی ہوں" بولتے ہوئے وہ ایک جھولے سے دوسرے جھولے کی طرف بھاگ جاتی۔ کبھی اگر خود جھولا نہ لے سکتی ہو تو زور سے آواز لگاتی "چاچو ۔ ۔ ۔" اور ہاتھ سے بلانے کا اشارہ کرتی۔ جب میں پاس پہنچتا تو کہتی "چاچو تیز، اور تیز، بہت تیز ۔ ۔ ۔"۔ اسکے چہرے پہ ڈر کہ آثار نمایاں ہوتے مگر باوجود اسکے وہ جھولا مزید تیز کرنے کا بولتی رہتی۔ اگر میں کبھی بولتا کہ بس اب واپس چلیں تو وہ بولتی "چاچو بس ون مور (چاچو بس ایک اور) ۔ ۔ ۔" یا پھر بولتی "اچھا بس ون لاسٹ (اچھا بس ایک آخری) ۔ ۔ ۔"

منیبہ صبح سکول جانے سے پہلے مجھے تقریبا ہر روز اٹھاتی اور بولتی، "چاچو لمبا چکر لینے چلیں؟"۔ لمبے چکر کا مطلب ہوتا تھا کم از کم آدھا کلومیٹر کی والک، جو سکول روانگی سے قبل منیبہ کو بہت اچھی لگتی تھی۔ اس لمبے چکر سے ملتا جلتا ایک چھوٹا چکر بھی ہوتا تھا، جس پہ میں منیبہ کو راضی کرتا تھا اگر میرا لمبے چکر کا دل نہ کر رہا ہو۔ چھوٹا چکر صرف اپنی گلی کا ایک چکر ہوتا تھا، مگر منیبہ کو لمبے چکر میں کہی خصوصیت نظر آتی تھی۔ لمبے چکر کے دوران وہ اچانک بھاگنا شروع ہو جاتی، اور پھر رک کر بولتی " آج میں کل سے تیزبھاگی تھی نا؟" اکثر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے ساتھ لے کر بھاگتی اور پھر بولتی "دیکھا مجھ میں پاور آگئی ہے نا؟"

گھروں میں بچوں کی الگ ہی رونق ہوتی ہے۔ اگر صرف چند دنوں کے لئیے بھی بچے نظر نہ آئیں تو سارے گھر میں ایک اداسی سی چھا جاتی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کرنے کے لئیے کچھ نہیں رہا۔ اور جب میں یہ سوچتا ہوں کہ میں دو سالوں کے لئیے لاہور سے کراچی آ گیا ہوں اور اب صرف عید یا بقرہ عید پہ ہی تمام فیملی سے ملاقات ہوگی، خصوصاً منیبہ سے، تو دل بیٹھ سا جاتا ہے۔ مگر منیبہ سے آج بھی اگر میں فوں پہ پوچھوں کہ آپ چھوٹی تھی تو کیا بولتی تھی، تو وہ زور سے بولتی ہے ۔ ۔ ۔ "چاچو بیٹی ہوں ں ں ں۔ ۔ ۔"

 

Advertisements

Posted in Urdu | Tagged: , , | 16 Comments »